جموں 13/اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) جموں و کشمیر کے کٹھوا ضلع میں آٹھ سال کی بچی آصفہ کے ساتھ درندگی اور قتل کے بعد پورے ملک میں ہنگامہ مچ گیا ہے. مقامی لوگوں کی مخالفت اور ریپ-مرڈر کے ملزمان کو بچانے کے لئے ہو رہے مظاہروں سے ڈر کر آصفہ کا خاندان گاؤں چھوڑ کسی نامعلوم جگہ پر چلا گیا ہے. ایک انگریزی میڈیا کے ساتھ بات چیت میں آصفہ کے والد نے براہ راست پی ایم مودی سے سوال کیا ہے کہ انہوں نے بیٹی بچاؤ-بیٹی پڑھاو کی بات کی تھی، کیا یہی ہے ان کا نعرہ.؟ آصفہ کی والدہ نے کہا ہے کہ اسے اپنی بیٹی کے لئے انصاف چاہئے اور جیسے اُن لوگوں نے آصفہ کا مارا، اسی طرح اُن لوگوں کو بھی پھانسی دی جانی چاہئے۔
آپ کو بتادئیں کہ آصفہ کو انصاف دلانے کے لئے پورے ملک میں مظاہرے ہورہے ہیں۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے جمعرات کی آدھی رات انڈیا گیٹ پرکینڈل مارچ کرکے وزیراعظم مودی کی خاموشی پر سوالات اُٹھائے. اُدھر آصفہ کے والد نے ایک نامعلوم جگہ سے اخبارنویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ جس دن ان کی بیٹی پر ظلم ڈھانے والوں اور اُس کے قاتلوں کو بچانے کے لئے ترنگا لے کر ریلی نکالی گئی، اُسی دن انہیں لگا کہ ان کی دوسری بیٹی کی بھی خیر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی نے بیٹی بچائو-بیٹی پڑھائو کی بات کی تھی. انہوں نے پوچھا کہ جو کچھ اُن کی بیٹی کے ساتھ ہوا، کیا یہ اسی کا نعرہ ہے ؟ آگے کہا کہ بی جے پی کے وزراء ہماری بیٹی کے قاتلوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور PM کچھ بھی نہیں بول رہے ہیں۔
آصفہ کے ساتھ ہوئی درندگی نے اُس کی بہن کو بھی خوف زدر کردیا ہے۔ اخبارنویسوں سے بات کرتے ہوئے آصفہ کی بہن نے بتایا کہ اُسے اکیلے میں اب کہیں آنے جانے میں ڈر لگتا ہے۔
آصفہ کی ماں بھی اپنی بیٹی کے لئے انصاف چاہتی ہے. انہوں نے آصفہ کے مجرموں کے لئے پھانسی کی سز کی مانگ کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جیسے اُن کی بیٹی پر ظلم و تشدد ڈھایا گیا، مجرموں کے ساتھ اُسی طرح کا سلوک کیا جانا چاہئے
خیال رہے کہ یہ بچی خانہ بدوش مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھی، 17 جنوری کو کٹھوا کے جنگل سے آصفہ کی لاش برآمد ہوئی تھی وہ ایک ہفتہ سے لاپتہ تھی، بعد میں پتہ چلا کہ اُسے اغوا کرکے ایک مندر میں قیدی بناکر رکھا گیا تھا، جہاں اس کی اجتماعی عصمت دری کی گئی اور بعدمیں اس معصوم بچی کا بے رحمی کے ساتھ قتل کیا گیا۔
سنجے رامٹھے، اُس کا بیٹا وشال، سب انسپکٹر آنند دتّا اور دو اسپیشل پولس آفسرس دیپک کھجوریا اور سریندر ورما، ہیڈ کانسٹیبل تلک راج اور پرویش کمار پر آصفہ کا اغوا کرنے، پھر اُس کی عصمت دری کرنے ، اوربعد میں قتل کرنے کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔
عصمت دری کے واقعات پر اخبارات میں چھپے کچھ کارٹون یہاں پیش کئے جارہے ہیں:
